معاون خصوصی احتساب کے معیار پر پورا اتریں، بلاول

چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو زرداری نے مطالبہ کیا ہے کہ وزیراعظم عمران خان اپنے ساتھیوں کے احتساب کیلئے بھی وہی طریقہ کار اختیار کریں جو انھوں نے پیپلزپارٹی اور نون لیگ کی قیادت کیلئے کیا تھا۔

کراچی میں پریس کانفرنس کے دوران بلاول بھٹو نے امید ظاہر کی کہ وزیراعظم اپنے دورہ سندھ میں عوام کی توقعات پر پورا اتریں گے، اتنی بارش 100 سال بعد ہوئی تھی، عوام کو وزیراعظم کا انتظار ہے ، امید ہے وفاق سندھ حکومت کے ساتھ مل کر کام کرے گا، سیلاب سے متاثرہ افراد کی بحالی کیلئے دن رات کام جاری ہے۔ صرف کراچی کے 3 نالوں کی صفائی سے مسائل حل نہیں ہوں گے۔

انھوں نے بتایا کہ اندرون سندھ بھی بارشوں سے شدید نقصان ہوا، میرپور خاص، بدین اور کھپرو میں عوام شدید مشکلات سے دوچار ہیں، امید کرتے ہیں وفاقی حکومت کسانوں کی بھرپور مدد کرے گی، جس طرح سیلاب میں سندھ حکومت نے وطن کارڈ جاری کیا ایسے ہی اقدام کی ضرورت ہے۔ وفاقی حکومت لوگوں کے تباہ گھر بنانے میں تعاون کرے ، سیلاب اور بارش سے متاثرہ افراد کیلئے ہنگامی بنیادوں پر ریلیف کی ضرورت ہے۔

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ کچھ لوگ طعنہ دیتے ہیں کہ سندھ کو پیسے نہیں دیں گے، یہ پیسے ان کے باپ کے نہیں ، سندھ کے عوام کے ہیں ، اس طرح کے طنز سے جو وفاق کو نقصان ہوتا ہے ان کٹھ پتلیوں کو احساس ہی نہیں۔

انھوں نے کراچی میں بجلی کی قیمت بڑھانے کا فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کیا۔

معاون خصوصی برائے اطلاعات عاصم سلیم باجوہ سے متعلق سوال پر بلاول بھٹو نے کہا کہ پیپلزپارٹی کے خلاف ایک خبر پر ایکشن ہوتا ہے تو دوسرے کی گرفتاری کا بھی سوال ہوگا، عمران خان کہا کرتے تھے کہ جس پر الزام ہے وہ استعفیٰ دے ، اسی بنیاد پر اپوزیشن رہنماوں کو گرفتار کیا گیا، جب جسٹس فائز عیسیٰ کی بیوی سے سوال ہوتا ہے تو پھر معاون خصوصی کو بھی اسی معیار پر پورا اترنا چاہئے، نواز شریف کیلئے پاناما کیس بنتا ہے تو لوگ پوچھیں گے ذلفی بخاری کے پاناما لیکس کا کیا ہوا۔

ٹرینڈنگ

مینو