کراچی: وفاق سے بجلی کی فراہمی کا پلان طلب

اعجاز امتیاز، محسن رضا

سپریم کورٹ نے کراچی میں غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ اور کرنٹ لگنے سے اموات کے بارے میں کے الیکٹرک کی رپورٹ مسترد کردی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے ہیں کہ کے الیکٹرک کا باس کراچی والوں کا پیسہ نچوڑنا چاہتا ہے۔

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں 3 رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی۔ چیئرمین نیپرا نے مقدمات کا ریکارڈ پیش کیا اور بتایا کہ کے الیکٹرک نے ہرشوکاز اور کیس پر حکم امتناع لے رکھا ہے ، گیس ، فیول اور بجلی کی پیدوار تک ان کے سارے معاملات خراب ہیں۔ چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ جس کمپنی نے کے الیکٹرک کو خریدا اس کی جانچ پڑتال کی جائے۔ عدالتی حکم کے بعد آدھے شہر میں بجلی بند کی گئی، یہ کون ہیں بجلی بند کرنے والے، ہم انہیں نہیں چھوڑیں گے ، لوگ کرنٹ لگنے سے مررہے ہیں اور یہ 50 ، 50 ہزار میں ضمانت حاصل کرلیتے ہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کے الیکٹرک کا مالک جیل میں ہے، حکومت کا یہ حال ہے کہ دوسرے ملک میں گرفتار ملزم کو کمپنی دے رکھی ہے، ان کی اجارہ داری کا خمیازہ کراچی والے بھگت رہے ہیں ، کے الیکٹرک کے وکیل بولے قید شخص کمپنی کا مالک نہیں ، شیٸر ہولڈر ہے۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ جس کمپنی نے کے الیکٹرک کو خریدا اس کی جانچ پڑتال کی جائے گی، کمپنی کے وسائل کیا ہیں، تجربہ کیا ہے، کے الیکٹرک کو کس طرح خریدا گیا، سب بتایا جائے، کے الیکٹرک کو آپریٹ کیسے کیا جاتا ہے، تمام تفصیلات بتائیں۔

سی ای او کے الیکٹرک مونس علوی نے رپورٹ پیش کی ، اس میں بتایا گیا کہ شہر کے 75 فیصد علاقوں میں زیرو لوڈ شیڈنگ ہے۔ عدلت نے کیس کی سماعت 2 ہفتے کیلئے ملتوی کرکے وفاق سے کراچی کو مستقل بجلی کی فراہمی کا پلان پیش کرنے کی ہدایت کردی۔

ٹرینڈنگ

مینو