موٹروے زیادتی کیس: اہم شواہد مل گئے

اسرار خان، مجاہد رضا

لاہور موٹروے اجتماعی زیادتی کیس کے ملزمان تیسرے روز بھی آزاد ہیں البتہ اہم پیش رفت ہوئی ہے اور جلد ملزمان کی گرفتاری کا امکان ہے، پولیس نے اب تک 20 مشکوک افراد پکڑے اور 7 کے ڈی این اے ٹیسٹ بھی کرائے گئے ہیں۔ 

پنجاب میں محفوظ سمجھی جانے والی موٹروے غیرمحفوظ ہوگئی، کے ملزمان سے ملتے جلتے حلیے والے 20 مشتبہ افراد کی پروفائلنگ کی۔ کاشف،  عابد ، عبدالرحمان، سلمان ، ابوبکر ، حیدر سلطان اور اصغر علی کو حراست میں لینے کے بعد ڈی این اے ٹیسٹ کرائے گئے ہیں۔

پولیس ذرائع نے زبرنیوز کو بتایا کہ اجتماعی زیادتی کی شکار خاتون کا میڈیکل کوٹ خواجہ سعید اسپتال سے کرایا گیا جس میں زیادتی ثابت ہو گئی۔

متاثرہ مقام پر سب سے پہلے پہنچنے والے ڈولفن اہلکار علی عباس نے بیان میں بتایا کہ ون فائیو پر 2 بج کر 49 منٹ پر کال آئی ، موقع پر پہنچے تو گاڑی کا شیشہ ٹوٹا ہوا تھا، بچے کا ایک جوتا سڑک اور دوسرا کھائی سے ملا۔ اسی دوران جھاڑیوں سے کسی نے بھائی کہہ پر پکارا، قریب گئے تو دیکھا خاتون نے بچوں کو سینے سے لپٹایا ہوا تھا، ون فائیو پر کال کرنے والا کوئی راہ گیر تھا جو اہلکاروں کے پہنچنے سے پہلے جاچکا تھا۔

وزیراعلی پنجاب عثمان بزدار نے 5 اور آئی جی انعام غنی نے 6 رکنی تحقیقاتی کمیٹی بنائی ہے اور دونوں نے جلد ملزمان کی گرفتاری کا دعوی کیا ہے۔

گوجرانوالہ سے تعلق رکھنے والی خاتون 9 ستمبر کو لاہور میں اپنی بہن کے گھر سے اپنی رہائش گاہ جارہی تھیں۔ خاتون کی کار پیٹرول ختم ہونے پر گجرپورہ میں موٹروے پر رک گئی تھی، اس دوران 2 افراد نے انھیں گن پوائنٹ پر قریبی جنگل میں لے جا کر بچوں کے سامنے اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا جبکہ طلائی زیورات ، نقدی اور دیگر سامان لوٹ کر فرار ہوگئے۔

گجرپورہ موٹروے پر زیادتی کیس میں اہم پیش رفت ہوئی ہے، تفتیشی اہلکاروں کو خاتون سے لوٹی گئی سونے کی انگوٹھی اور گھڑی مل گئی ہے، دونوں چیزوں کو فنگر پرنٹ تجزیئے کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔

ٹرینڈنگ

مینو