یوٹیوب بند نہ کی جائے، اہم شخصیات

یوٹیوب پر پابندی کا عندیہ دیئے جانے کے بعد حکومتی شخصیات اور فنکار مخالفت میں سامنے آگئے۔ اداکاروں کا کہنا ہے کہ حکومت پابندی لگانے کے بجائے متنازع مواد کنٹرول کرے۔

وزیراعظم عمران خان کی معاون خصوصی برائے ڈیجیٹل پاکستان تانیہ ایدروس نے ٹوئٹر پر اپنا موقف پیش کیا، انھوں نے کہا کہ یوٹیوب کو بند کرنا کسی مسئلے کا حل نہیں ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک میں 3 برس یوٹیوب پر پابندی تھی اس اقدام نے مقامی سطح پر مواد تیار کرنے والے ایکو سسٹم کو بھی محدود رکھا۔ یوٹیوب پر پابندی ختم ہونے کے بعد ایکو سسٹم اب پھلنا پھولنا شروع ہوا اور ہزاروں افراد کیلئے روزگار کے مواقع پیدا ہوئے ہیں۔

وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے بھی ٹوئٹر بیان میں کہا تھا کہ عدالتیں اور پی ٹی اے مورل پولسنگ اور ایپس کی بندش کے معاملے سے دور رہیں۔

صرف سیاسی رہنما ہی نہیں یوٹیوبرز اور فنکار برادری بھی مخالفت میں سامنے آگئی ہے۔

ادکارہ مہوش حیات نے سوال کیا کہ کیا یوٹیوب پر واقعی پابندی لگ جائے گی ؟ کیا اس کے بعد ٹوئٹر، انسٹاگرام، فیس بک اور نیٹفلکس سمیت واٹس ایپ کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوگا؟

اداکارہ نے کہا کہ آزادی اظہار ہر معاشرے کا بنیادی حق ہوتا ہے۔ پاکستان میں سوشل میڈیا کے ذریعے ہی اصل کہانیاں سامنے آتی ہیں ، ترقی پسند ریاستوں کو پابندی کا سہارا لینے کی ضرورت نہیں ہونی چاہیئے۔

اداکارہ زارا نور عباس نے کہا کہ کورونا کی وجہ سے کتنے ہی لوگ نوکریوں سے ہاتھ دھوچکے ہیں، ملک میں ایسے بہت سے لوگ ہیں جن کی یوٹیوب سے آمدنی ہوتی ہے، پابندی سے بہتر ہے کہ ناموزوں مواد ہٹایا جائے۔

سپریم کورٹ نے سوشل میڈیا پر قابل اعتراض مواد سے متعلق کیس کی بدھ کو سماعت کے دوران یوٹیوب پر پابندی کا عندیہ دیا تھا، ججز نے اپنے ریمارکس میں کہا تھا کہ ہر کوئی یوٹیوب پر چاچا، ماما بن کر بیٹھ جاتا ہے۔

ٹرینڈنگ

مینو