طارق عزیز اور نیلام گھر

زرین اختر(لیکچرار وفاقی اردو یورنیورسٹی)

وہ بلاشبہ پاکستان ٹیلی وژن کا سنہری دور تھا۔ نیلام گھر حاظرین و ناظرین کو معلومات و تفریح فراہم کرنے کا بہترین ذریعہ اور طارق عزیز اس کے اوّل و آخرمیزبان ، منفرد آواز و لب ولہجہ ، انتہائی پر اعتماد ، سیکڑوں اشعار حفظ ، شستہ و شائستہ زبان اور درست تلفظ۔ ، پی ٹی وی نے ایسے ہی پروگراموں اور فن کاروں کے ذریعے ابتدائی دور میں ایک نسل کی ثقافتی پرورش کی۔

نیلام گھر کا ہال حاظرین سے بھرا ہوتا۔ طارق عزیز ان کے درمیان جاکر سوالات پوچھتے۔ ایک قطار سے دوسری قطار ، ایک زینے سے دوسرے زینے بھاگتے، درست جواب دینے والا انعام کا مستحق قرار پاتا۔ ان پروگراموں کے ناظرین نہ صرف اپنی معلومات میں اضافہ کرتے بلکہ اپنا تلفظ بھی درست کرتے۔

اس پروگرام میں مختلف تفریحی کھیل بھی کھیلے جاتے اور اس میں کتنی خوب صورتی اور نزاکت سے انسانی نفسیاتی گرہیں کھلتیں۔ مثلاَ ایک کھیل میاں بیوی میں ذہنی ہم آہنگی کا تھا۔ اس میں میاں کو باہر بھیج دیا جاتا، طارق عزیز بڑے خوب صورت انداز میں کہتے   ان کو وہاں لے جائیں جہاں میری آواز ان کی سماعتوں سے نہ ٹکرا سکے اور شریر انداز میں ان کی بیگمات سے کہتے اگر آپ کی اجازت ہوتو۔ بیگمات سے پوچھے جانے والے مختلف سوالات میں سے ایک سوال یہ بھی ہوتاکہ خواتین کے درمیان آپ کے شوہر خاموش رہتے ہیں یا چہکتے ہیں؟ اس جواب پہ کہ خاموش رہتے ہیں طارق عزیز ہمم کرتے یعنی شرافت کو سراہتے اور اگر جواب آتا کہ چہکتے ہیں تو میزبان طارق عزیز مسکرا دیتے کہ جیسے یہ تو مرد کی عام فطرت ہے۔

ایک اور سوال بڑا اچھا تھاکہ جب آپ کے میکے سے کوئی آتا ہے تو شوہر خوش ہوتے ہیں یا؟ ایک سوال یہ بھی تھا کہ بیماری کی حالت میں شور یہ مچاتے ہیں یا منہ لپیٹ کر پڑ جاتے ہیں؟ ایک منظر جو میرے ذہن پر جیسے نقش ہے وہ یہ کہ طارق عزیز نے ایک خاتون سے سوال کیا کہ اس وقت آپ کے شوہر کی جیب میں کتنے پیسے ہیں؟ بیوی نے جواب دیا کہ نو سو ، طارق عزیز نے کہا کہ آپ کو کیسے پتا؟ بیوی نے جواب دیا کہ انہوں نے چلتے وقت مجھ سے مانگے تھے۔جب طارق عزیز نے ان خاتون کے شوہر سے پوچھا کہ آپ کی جیب میں اس وقت کتنے پیسے ہیں تو انہوں نے اس رقم سے زیادہ بتائے جو ان کی بیگم نے بتائے تھے، ہال سے ہنسی کی آوازیں آئیں، نقد انعام بھی اسی جوڑے نے جیتا۔ طارق عزیز نے لفافہ بیوی کے ہاتھ میں دیا۔ میں نے دیکھا کہ اسٹیج کی سیڑھیاں اترتے ہوئے خاتون نے وہ لفافہ شوہر کو دے دیا اور شوہر نے مسکراتے اور بھونیں اچکاتے ہوئے لفافہ اپنے کوٹ کی اندرونی جیب میں رکھ لیا۔

ایک سلسلہ بیت بازی کے مقابلے کا تھا۔ جو ٹیم جیت جاتی وہ اگلے پروگرام میں نئی ٹیم سے مقابلہ کرتی۔ اس کھیل میں ادب کے ماہرین بہ حیثیت منصف شرکت کرتے اور بیت بازی کے شرکاء و طالب علموں کی اصلاح اور حوصلہ افزائی کرتے۔

ذہنی آزمائش کا ایک مقابلہ کار کیلئے ہوتا۔ ایک مرتبہ ایک سنجیدہ اور ادھیڑ عمر صاحب کار کا مقابلہ جیتے۔ وہ انتہائی تحمل سے جواب دیتے۔ میری سمجھ میں آیا کہ ایسے پروگرام میں اگر اتنے تحمل سے جواب دیئے جائیں تو انداز بھی اچھا اور سوچنے کیلئے وقت بھی مل جاتا ہے۔ میزبان یہ سمجھتا ہے کہ یہ صاحب کا اسلوب ہے۔ یہ ان صاحب کا اسلوب ہی تھا ، اپنانے کے قابل۔

نیلام گھر میں ایک مرتبہ ڈاکٹر منظور احمد بطور مہمان شریک ہوئے۔ ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر صاحب نے کہا میری انٹر میں اوّل پوزیشن تھی۔ مجھے میڈیکل اور انجینئرنگ دونوں کالج میں داخلہ مل رہا تھا لیکن مجھے فلسفہ پڑھنا تھا، مجھے لگتا تھا کہ جیسے یہ کوئی راز ہے اور اسے کھلنا چاہیے۔ ڈاکٹر منظور احمد کے اس جواب سے مجھ اسکول کی بچی کو پہلی مرتبہ یہ لگا کہ ڈاکٹری اور انجینئرنگ کے علاوہ بھی دنیا میں کچھ ہے۔ ایسے ہی ذرائع ابلاغ سماجی ادارے کا کردار ادا کرتے ہیں اور تعلیمی نصاب کی طرح ذہن سازی کرتے ہیں۔

نیلام گھر اور طارق عزیز ، ایک دوسرے کیلئے لازم و ملزوم ، نیلام گھر طارق عزیز کے علاوہ کوئی اور نہیں کرسکا۔ نیلام گھر اپنے اختتام کو پہنچا۔ طارق عزیز کی آواز اس وقت بھی جیسے سماعتوں سے ٹکرارہی ہے۔

میری آواز کے ساتھ اپنی آواز ملایئے گا ، پاکستان زندہ باد۔

ٹرینڈنگ

مینو