اپوزیشن کو بیانات میں تضاد دکھانے کا چیلنج

ویب ڈیسک

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ لاک ڈاؤن کے فیصلے مرکزی سطح پر ہونے چاہئے تھے، صوبوں نے خود ہی فیصلے کرلئے، مجھ پر لاک ڈاؤن کیلئے دباو تھا ، کابینہ کا بھی پریشر تھا، ہم نے سب سے پہلے اسمارٹ لاک ڈاؤن کی بات کی۔

قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعظم نے بتایا کہ عوام کو کورونا اور بھوک سے بچانا اہم ہے، اگلا مرحلہ مشکل ہے ، اگر احتیاط نہ کی  تو اسپتالوں پر دباو مزید بڑھ جائے گا، این سی او سی میں روز رپورٹ ملتی ہے کہ کہاں کتنی احتیاط کی جارہی ہے اور کہاں احتیاط نہیں کی جارہی، اس مہینے اگر احتیاط کرلی تو بڑے نقصان سے بچ سکتے ہیں۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کورونا وائرس کے معاملے پر کبھی بھی کنفیوژ نہیں تھی، انھوں نے اپوزیشن کو چیلنج کیا کہ 13 مارچ سے ابتک ان کے بیانات میں ایک تضاد دکھا دے۔ سوشل میڈیا پر ساری تقاریر موجود ہیں۔

وزیراعظم نے اسمارٹ لاک ڈاؤن سے متعلق اپنے فیصلے کا دفاع کیا اور بتایا کہ حکومت وبا کے پیچھے نہیں چھپ رہی، عمران خان نے کہا کہ جب حکومت میں آئے تو کرنٹ اکاونٹ خسارہ 20 ارب ڈالر تھا، انھیں فلاحی کاموں کیلئے اپنے عوام سے پیسے جمع کرتے ہوئے کبھی شرم نہیں آئی لیکن غیروں سے پیسے مانگتے ہوئے شرم آئی۔ وزیراعظم ملک کے باپ اور قوم بچوں کی طرح ہوتی ہے۔ اگر میرے بچے بھوکے ہوں اور علاج نہ کراسکتے ہوں تو کیا میں بادشاہوں کی طرح رہوں۔ حکومت اب تک 5 ہزار ارب روپے قرض واپس کرچکی ہے جو پچھلی حکومتوں نے لئے تھے۔

عمران خان نے حکومت کی خارجہ پالیسی کو کامیاب قرار دیا اور ارکان اسمبلی کو بتایا کہ بھارت پاکستان میں عدم استحکام کی کوشش کر رہا ہے، بی جے پی کی انتہا پسند حکومت پاکستان کو سبق سکھانا اور گرانا چاہتی ہے۔ بھارت نے اب آزاد کشمیر کو اپنا علاقہ قرار دینا شروع کردیا ، 8 لاکھ فوج مقبوضہ وادی میں رکھ کر آزادی کی تحریک کو دبایا نہیں جاسکتا۔ کشمیر کا معاملہ پوائنٹ آف نو ریٹرن پر پہنچ گیا ہے۔

سابقہ حکومتوں کی پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے وزیراعظم نے ایبٹ آباد آپریشن کا ذکر کیا اور القاعدہ کے سابق سربراہ اسامہ بن لادن کو شہید کہہ دیا ، انھوں نے کہا کہ اس واقعے کے بعد دنیا نے پاکستان کو برا بھلا کہا، اتحادی ملک نے بغیر بتائے پاکستان میں آکر ایک شخص کو مار دیا جبکہ امریکی جنگ میں 70 ہزار پاکستانی شہید ہوچکے تھے۔

ٹرینڈنگ

مینو