سندھ اور بلوچستان میں سیلاب، ہزاروں متاثر

سندھ اور بلوچستان میں ندی نالے بپھرنے سے  سیلاب آگیا، دادو ضلع کے سیکڑوں دیہات ڈوبنے سے ہزاروں افراد پھنس گئے، پاک فوج اور سول ادارے کشتیوں کے ذریعے لوگوں کو علاقے سے نکال رہے ہیں۔

ضلع دادو میں کیرتھرکے پہاڑی سلسلے میں بارش کے پانی نے بڑے علاقے کو ڈبو دیا، تحصیل جوہی کے علاقے کاچھو میں ندی نالوں میں طغیانی آگئی۔ سیکڑوں افراد بے گھر ہوئے اور جانور پانی کے ریلے میں بہہ گئے۔

سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو آپریشن جاری ہے ، پاک فوج ، رینجرز او سول اداروں کے اہلکاروں نے متعدد افراد کو پانی سے نکال لیا ہے۔

برساتی ریلے میں پھنسے افراد کو نکالنے کیلئے کشتیوں کی مدد لی جارہی ہے اور متاثرین کیلئے سرکاری اسکولوں میں عارضی کیمپ قائم کئے گئے ہیں۔

آرڈی 44 کے مقام پر حفاظتی بند میں شگاف پڑا ہے جبکہ نئی گاج ڈیم کے حفاظتی پشتے کو نقصان پہنچنے سے بھی کئی علاقے زیر آب آئے۔

وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ نے جوہی کا دورہ کیا لیکن پیر گیلے کئے بغیر ہدایات دے کر واپس آگئے البتہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا فضائی جائزہ ضرور لیا۔

بلوچستان کے علاقے مستونگ ، قلات، نوشکی، جھل مگسی ، مچھ اور بولان کے ندی نالوں میں طغیانی کے باعث نشیبی علاقے زیرآب ہیں، ڈیرہ بگٹی ، دالبندین ، کوہلو، سوئی ، اوستہ محمد اور دیگر علاقوں میں سیلابی ریلے نے 8افراد کی جان لی ہے۔

بولان سبی شاہراہ سیلابی ریلے کے باعث بند ہے اور پی ڈی ایم اے نے متاثرہ علاقوں کے لئے امدادی سامان روانہ کردیا ہے۔

حکام نے زبرنیوز کو بتایا کہ شدید بارش کے بعد کوئٹہ جیکب آباد، گواد کراچی، اور سبی کوہلو شاہراہیں مختلف مقامات پر بند ہیں جنھیں کھولنے کی کوششیں جاری ہیں۔

ٹرینڈنگ

مینو