جسٹس عیسیٰ کو دھمکیاں، مولوی مرزا افتخار پر فردجرم

محمد عثمان

ججز کی توہین اور جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو دھمکیاں دینے کے ملزم مولوی مرزا افتخار الدین آغا پر فرد جرم عائد کردی گئی۔

چیف جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے3 رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی۔ مرزا افتخار الدین آغا نے ویڈیو بیان پر معذرت اور شرمندگی کا اظہار کیا ، ان کا کہنا تھا کہ انھیں ویڈیو کی اپ لوڈنگ اور ایڈیٹنگ کا علم نہیں تھا۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ یہ معافی والا کیس نہیں، اس طرح تو ملک کا نظام فیل ہو جائے گا۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ آپ مسجد کے منبر پر وہ زبان استعمال کر رہے تھے جو کوئی جاہل آدمی بھی استعمال نہیں کر سکتا۔

چیف جسٹس نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی اہلیہ کا بیان حلفی عدالت میں جمع کرایا گیا ہے اسے پڑھیں اور جواب دیں۔ عدالت نے ایف آئی اے اور سی ٹی ڈی کی رپورٹس پر بھی عدم اطمینان ظاہر کیا اور اٹارنی جنرل سے کہا کہ یہ محکمے معاملے کو سنجیدہ نہیں لے رہے۔

جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ یہ ایک جج کا معاملہ نہیں بلکہ پوری عدلیہ کی کردار کشی کی گئی ہے۔ سپریم کورٹ نے مرزا افتخار الدین پر فرد جرم عائد کی اور ملزم کو جواب جمع کرانے کیلئے ایک ہفتے کی مہلت دے دی۔

ٹرینڈنگ

مینو