جاپان: گئیشا طوائف یا میزبانی کی ملکہ ؟ ویڈیو

محسن رضا

جاپان میں تہذیب کی علامت اور انتہائی اعلی درجہ کی فنکارہ کو گئیشا کہا جاتا ہے۔ یہ فنکارائیں امیر ترین افراد کیلئے پرفارم کرتی ہیں۔

ان کی پرفارمنس دیکھنے کی ہر شخص کو اجازت نہیں ملتی۔مخصوص مراکز میں منعقد ان کی محفلوں میں جانے کے بھی آداب ہیں۔

گئیشا جاپان کا قدیم تہذیبی لباس کیمونو پہنتی ہیں ، میک اپ اس انداز سے کرتی ہیں کہ چہرے اور گردن پر سفید رنگ نمایاں ہوتا ہے۔ ان کے بال بھی خاص انداز سے ترتیب دیئے جاتے ہیں۔

گئیشاوں کے ہاتھ میں پنکھا پکڑنے کا انداز بھی دلکش ہوتا ہے۔ وہ انتہائی متانت کے ساتھ چلتی ہیں جیسے تہذیب ان میں سمٹتی چلی جارہی ہو۔

وہ بات کرتی ہیں تو منہ سے پھول جھڑتے ہیں۔ انہیں اٹھنے ، بیٹھنے کا سلیقہ سکھایا جاتا ہے۔ وہ کیلی گرافی کریں تو انمٹ نقوش بنتے ہیں۔

وہ ٹی ہاوسز میں چائے پیش کرنے کے آداب سے خوب واقف ہوتی ہیں اور انھیں فن میزبانی کی ملکہ سمجھا جاتا ہے۔

گئیشا عمدہ ترین کلاسیکی گلوکارہ، رقص اور تین تارہ بجانے کی ماہر ہوتی ہیں۔ پھولوں کو دلکشی سے سجانا بھی انہیں خوب آتا ہے۔

جو لڑکیاں گئیشا بننا چاہتی ہیں وہ 15 برس کی عمر میں گھر بار چھوڑ کر گئیشا ہاوسز منتقل ہوجاتی ہیں۔ یہ ہاوسز ہی لڑکیوں کو دوران تربیت عمدہ ترین کپڑے اور خوراک مہیا کرتے ہیں۔

گئیشا بننے کا عمل 17 ویں صدی کے ایڈو دور سے رائج ہے۔ اس دور کے سامورائی بھی ان کی قدر کرتے تھے۔

1920 کےشوآ جاپان میں 80 ہزار سے بھی زیادہ گئیشائیں تھیں۔ جنگ عظیم دوم کے بعد غربت بڑھی تو ان کی تعداد میں نمایاں کمی ہوگئی۔ ٹوکیو اور کیوٹو ان کے مرکز رہ گئے۔

گئیشاوں کو شادی کی اجازت نہیں۔ وہ شادی کرلیں تو انہیں انٹرٹینمنٹ کا پیشہ چھوڑنا پڑتا ہے۔

غیر شادی شدہ رہنے کی صورت میں ریٹائرمنٹ اختیار کریں تو گئیشا ریستوران کی مالکن یا پھر اس فن کو سیکھنے والی لڑکیوں کی ٹیچر بن جاتی ہیں۔

مغرب میں گئیشا کو طوائف کا نام دیا جاتا ہے جسے جاپان میں ان خواتین کی توہین سمجھا جاتا ہے۔

جاپان کے 40 اضلاع میں ان کی تعداد اب محض 600 رہ گئی ہے۔ آسمان  سے باتیں کرتی مہنگائی اور جدید دور کے سبب یہ سسکتی تہذیب دم توڑ رہی ہے۔

ٹرینڈنگ

مینو