معروف اینکر سلمان حسن اداس کیوں؟

کراچی طیارہ حادثہ پاکستان کے معروف اینکر اور میزبان سلمان حسن کیلئے ذاتی طور پر بھی بڑا سانحہ تھا۔ وہ ایک ایسی شخصیت سے محروم ہوئے جس نے انہیں قدم قدم پر سنبھلنا سکھایا، سلمان حسن زبرنیوز کے ساتھ آج اسی شخصیت کے گھر گئے تو آنکھوں میں آنسو آگئے مگر یہ دیکھ کر دل کو تقویت بھی ہوئی کہ بند دروازے کے ساتھ لوگ پھول رکھ کر فاتحہ خوانی کررہے ہیں اور اس شخصیت کی یاد میں ان ہی کی طرح اداس بھی ہیں۔ جون ایلیا نے کہا تھا یہ مجھے چین کیوں نہیں پڑتا ۔۔۔۔ ایک ہی شخص تھا جہان میں کیا، آئیں سلمان حسن سے ایک شخص کے بارے میں جانتے ہیں

ملاقاتیں ادھوری رہ گئی ہیں ۔۔ کئی باتیں ضروری رہ گئی ہیں۔ انصار نقوی کی لاہور میں رہائش گاہ جا کر سلمان حسن کو لگا جیسے محسن نقوی نے یہ شعر اسی وقت کیلئے کہا تھا، آنکھیں بھیگ گئی تو والد کے انتقال پر کہے چار مصرعے یاد آگئے۔

درد تنہائی شدت سے ہوتا رہا

مدتوں آسماں ساتھ روتا رہا

یادوں میں رہا زندہ وہ تاقیامت

آغوش لحد میں گرچہ سوتا رہا

انصار نقوی کی موت نے ان کے تمام ملنے والوں کو اداس کردیا ہے ، وہ جیونیوز کی لانچنگ ٹیم کے سربراہ اور معروف صحافی اظہر عباس کے دست راست تھے۔

انصار نقوی کراچی میں اپنے اہلخانہ کے ساتھ عید منایا کرتے تھے اور وہ اس بار بھی اسی لئے شہرقائد آرہے تھے لیکن طیارہ ماڈل کالونی میں آبادی پر گر کر تباہ ہوگیا، 22 مئی کو پیش آئے اس سانحے میں 97 افراد جاں بحق ہوئے اور صرف 2 محفوظ رہ سکے۔

ٹرینڈنگ

مینو