امریکی جنرل کی ٹرمپ کے ساتھ تصویر پرمعافی

امریکا کے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل مارک ملی کو  صدر ٹرمپ کے ساتھ  باوردی ہوکر سینٹ جان چرچ جانے پر معافی مانگنا پڑ گئی۔

جنرل مارک ملی نے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے گریجویٹس کیلئے ریکارڈڈ تقریر میں اپنے دورے پر معافی مانگی۔ جنرل ملی وائٹ ہاوس کے باہر پرامن مظاہرین کو منشتر کئے جانے کے بعد صدر کے ساتھ چرچ گئے تھے جہاں ڈونلڈ ٹرمپ نے معنی خیز انداز سے بائبل لہرائی تھی۔

سیاہ فام شہری جارج فلائیڈ کی موت کے خلاف وائٹ ہاوس کے باہر مظاہرہ کرنے والوں کو طاقت کے زور پر منتشر کیا گیا تھا۔ جنرل ملی کے صدر ٹرمپ کے  ساتھ باوردی ہو کر چرچ جانے سے یہ تاثر پیدا ہوا تھا کہ فوج بھی صدر ٹرمپ کے ان اقدامات کی توثیق کررہی ہے۔ سابق وزیر دفاع جنرل جیمز میٹس نے بھی اس پر کھل کر تنقید کی تھی۔

جنرل مارک ملی نے کہا ہے کہ سینئرز کو بغور دیکھا جاتا ہے، انھیں بھی استثنی حاصل نہیں، اس تصویر کے بعد فوج کے سول سوسائٹی میں کردار پر بحث شروع ہوگئی، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کا کہنا تھا کہ انھیں وہاں نہیں ہونا چاہئے تھا، ان حالات میں وہاں موجودگی سے ایسا تاثر گیا جیسے فوج سیاست میں ملوث ہے، یہ غلطی تھی اور اس سے انھوں نے سبق حاصل کیا ہے۔

جنرل مارک ملی نے  جارج فلائیڈ کے قتل پر افسوس کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس موت کے بعد جو مظاہرے کئے گئے وہ افریکن امریکنز کے ساتھ صدیوں سے جاری ناانصافی کااظہار تھے۔

ٹرینڈنگ

مینو