نوازشریف کے اثاثے ضبط کرنے کا حکم

محمد عثمان، اسرار خان

اسلام آباد کی احتساب عدالت نے توشہ خانہ ریفرنس میں نواز شریف کی جائیداد اور اثاثے ضبط کرنے کا حکم دیدیا جبکہ لاہور کی احتساب عدالت نے پلاٹ الاٹمنٹ کیس میں نواز شریف کو اشتہاری قرار دینے کی کارروائی شروع کرنے کی ہدایت کردی۔

توشہ خانہ ریفرنس کی سماعت کے دوران نیب نے نوازشریف کے اثاثوں سے متعلق اہم ریکارڈ  عدالت میں جمع کرادیا، ذرائع کے مطابق نواز شریف کے نام پر لاہور میں 1550 کنال سے زائد زرعی اراضی موجود ہے جبکہ نواز شریف کے زیر استعمال مرسیڈیز، لینڈ کروزر ، دو ٹریکٹرزکا بھی ریکادڈ حاصل کیا گیا ہے۔ لاہور کے نجی بنک میں ان کے نام ملکی اور غیر ملکی اکاونٹ ہے جبکہ مری میں بنگلہ اور شیخوپورہ میں زرعی اراضی بھی نکلی ہے۔

احتساب عدالت کے جج اصغر علی نے نواز شریف کی جائیداد ضبط کرنے کا حکم دیا اور کیس کی سماعت 13 اکتوبر تک ملتوی کر دی۔

غیرقانونی پلاٹ الاٹمنٹ کیس کی سماعت احتساب عدالت کے جج اسد علی کی سربراہی میں ہوئی ، اس دوران نوازشریف کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری پر عملدرآمد سے متعلق لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن کی رپورٹ پیش کی گئی۔

رپورٹ کے مطابق نوازشریف وارنٹ گرفتاری وصول نہیں کر رہے اور اسی وجہ سے لندن فرار ہوئے ہیں، نیب پراسیکیوٹر نے بتایا کہ ملزم نے اس وقت کے وزیراعلیٰ نواز شریف کی ملی بھگت سے ایک ایک کنال کے 54 پلاٹ ایگزمپشن پر حاصل کئے ، ملزم نے نواز شریف کی ملی بھگت سے 2 گلیاں بھی الاٹ شدہ پلاٹوں میں شامل کرلیں۔

عدالت نے نواز شریف کو اشتہاری قرار دینے کی کارروائی شروع کرنے کا حکم دیا اور آئندہ سماعت پر پیش رفت رپورٹ طلب کرلی۔

ٹرینڈنگ

مینو