امریکا: فوج کو شکاگو بھیجنے کاپلان

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ڈیڑھ سو وفاقی ایجنٹس کو شکاگو بھیجنے کا پلان بنالیا، شہر کی میئر نے اس اقدام کو غیرآئینی قرار دیا ہے۔

پورٹ لینڈ کی صورتحال کنٹرول ہوئی نہیں اور صدر ٹرمپ شکاگو کی طرف دیکھنے لگے، بلیک لائیوز میٹر تحریک کے تحت پورٹ لینڈ میں احتجاج جاری ہے، والدین نے گزشتہ رات بھی جسٹس سینٹر کے باہر مظاہرہ کرتے اپنے بچوں اور پولیس کے درمیان انسانی ڈھال بنائی تھی۔

25 مئی کو مینیاپلیس میں جارج فلائیڈ کے قتل کے بعد سے پورٹ لینڈ میں ہر رات احتجاج کیا جارہا ہے اور صورتحال فورسز کے کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے۔

یہاں وفاقی اہلکاروں پر انسانیت سوز مظالم کے الزامات لگائے جارہے ہیں اور مقامی افرادکا کہنا ہے کہ مظاہرین کو ایسے افراد نے گرفتار کیا جن کی گاڑیوں پر کوئی شناختی علامت بھی نہیں تھی۔

میئر پورٹ لینڈ کا کہنا ہے کہ وفاقی اہلکار صورتحال کی خرابی کے ذمے دار ہیں انھیں شہر سے چلے جانا چاہئے۔

ایسے میں ٹرمپ انتظامیہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے ڈیڑھ سو ایجنٹس کو شکاگو میں ہنگاموں پر قابو پانے کیلئے بھیجنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔

میئر شکاگو لوری لائٹ فوٹ نے مظاہرین سے نمٹنے کیلئے فوجیوں کی مدد لینے کے اقدام کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے البتہ وائٹ ہاوس نے بات سنی ان سنی کردی ہے۔

وائٹ ہاوس کی پریس سیکریٹری کیلیگ میک اینینی نے ہوم لینڈ سیکیورٹی اہلکاروں کو پورٹ لینڈ بھیجنے کی قانونی توجیح بیان کی، انھوں نے اس قانون کی طرف اشارہ کیا جو وفاق کو وفاقی املاک کی حفاظت کیلئے اہلکار تعینات کرنے کی اجازت دیتا ہے البتہ انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ صدر ٹرمپ اہلکار شکاگو بھیجنے کیلئے کس قانون کا استعمال کریں گے۔

انھوں نے بتایا کہ صدر ٹرمپ پورٹ لینڈ میں ایکشن لے رہے ہیں جبکہ ڈیموکریٹ میئر اور گورنر اس صورتحال میں وفاق کے ساتھ مل کر کام کرنے کو تیار نہیں، وفاق اپنی املاک کی حفاظت کیلئے اقدمات اٹھارہا ہے، وفاقی حکومت پورٹ لینڈ میں سیاٹل جیسی صورتحال پیدا نہیں ہونے دے گی۔

انھوں نے وفاقی کورٹ ہاوس پر حملے کی مذمت کی اور اہلکاروں کے شناخت ظاہر نہ کرنے پر تنقید مسترد کردی، وائٹ ہاوس کی پریس سیکریٹری کا کہنا تھا کہ اہلکار مجمعے میں اپنی شناخت ظاہر نہیں کرتے کیونکہ ایسا کرنا ان کے لئے خطرناک ہوسکتا ہے۔ انھوں نے اہلکار شکاگو بھیجنے کے سوال کا کوئی واضح جواب نہیں دیا۔

ٹرینڈنگ

مینو