امریکا: ٹوئٹر کا جن قابو کرنے کی کوشش

طاہر عباس (بیوروچیف نارتھ امریکا)

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ آمرانہ طرز عمل اختیار کرنے لگے ، صدر نے ٹوئٹر اور فیس بک سمیت سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کے اختیارات محدود کرنے کے ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کردیئے۔

صدر ٹرمپ نے ایگزیکٹو آرڈر پر وائٹ ہاوس میں دستخط کئے اور اسے آزادی اظہار کا تحفظ کرنے کیلئے اہم قدم قرار دیا۔ اب صدر وفاقی اداروں کو ویب سائٹس کی سیاسی جانبداری جانچنے اور سوشل میڈیا کے سرکاری اشتہارات بند کرنے کا حکم دے سکتے ہیں۔

امریکی صدر ویب سائٹس کے مواد کو مزید ریگولیٹ کرنا چاہتے ہیں، صدر ٹرمپ کے اس اقدام کا ہدف کمیونیکیشن قانون ہے، آئین میں ٹوئٹر ، فیس بک اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو شہریوں کی طرح آزادی اظہار کا حق ہے۔

امریکی صدر مسلسل سائنس سے متصادم باتیں کر رہے ہیں، وہ کہہ چکے ہیں کہ الٹراوائلٹ شعاوں اور جراثیم کش محلول مریضوں کو دے کر کورونا کا علاج کیا جاسکتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ کورونا گرمیوں میں ختم ہوجائے گا۔ اس صورت حال میں عالمی ادارہ صحت نے دنیا کو خبردارکیا تھا کہ موسمی اثرات سے یہ وائرس متاثر نہیں ہوتا۔

فیس بک اور ٹوئٹر نے بھی صارفین پر واضح کیا تھا کہ وہ صدرٹرمپ کی باتوں کو سچ سمجھنے کے بجائے حقائق کا جائزہ لیں۔ ان سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر صارفین بھی صدر ٹرمپ کا مذاق اڑاتے رہے ہیں۔

ڈیموکریٹس رہنماوں نے صدر کے نئے ایگزیکٹو آرڈر کو غیر آئینی قرار دیا ہے جبکہ قانون ماہرین کو یقین ہے کہ عدالتیں اسے مسترد کردیں گی۔ دوسری طرف ری پبلکنز کے نزدیک سماجی رابطوں کی ویب سائٹس کنزرویٹوزسے تعصب برتتی ہیں اور ڈیموکریٹس کو ترجیح دیتی ہیں۔

ٹرینڈنگ

مینو