امریکا: یادگاروں کے تحفظ کا ایگزیکٹو آرڈر

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ملک میں نصب یادگاروں اور مجمسوں کا تحفظ کرنے کیلئے ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کردیئے ، انھوں نے کہا ہے کہ یادگاروں کو نقصان پہنچانے پر سخت سزائیں دی جائیں گی۔

امریکی صدر نے دستخط کرنے کا اعلان ٹوئٹر پرکیا اور بتایا کہ ہمارے ملک کے خلاف لاقانونیت برداشت نہیں کی جائے گی۔ بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان سے یہ تاثر پیدا ہوا ہے کہ جیسے وہ ان افراد کو امریکی شہری ہی تسلیم نہیں کرتے جو مجسمے گرانا چاہتے ہیں۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بلیک لائیوز میٹر احتجاج کے دوران ہنگاموں کو مجرمانہ تشدد قرار دیتے ہوئے کہا کہ قانون کی خلاف ورزی پر سخت سزائیں دی جائیں گی۔

جارج فلائیڈ کے قتل کے بعد بلیک لائیوز میٹر تحریک نے زور پکڑا اور امریکا بھر میں احتجاج کیا گیا تھا، مظاہرین نسل پرستوں کے کئی اہم مجسمے گراچکے ہیں اور دیگر بھی گرانا چاہتے ہیں ، ان حالات میں ڈونلڈ ٹرمپ کے ایگزیکٹو آرڈر کو انتہائی غیر معمولی قرار دیا جارہا ہے۔

ایگزیکٹو آرڈر جاری کرنے سے پہلے امریکی صدر نے کہا تھا کہ سابق صدر اینڈریو جیکسن کے مجسمے کو نقصان پہنچانے والے افراد کو کم سے کم 10 سال قید کی سزا ملنی چاہئے۔

امریکا میں قتل کی سزا 8 برس ہے اور اگر صدر ٹرمپ کی مرضی پر عمل کرلیا گیا تو یہ سزا کسی انسان کی جان لینے سے بھی زیادہ بڑی ہوگی۔

ٹرینڈنگ

مینو