ٹرمپ ٹیکس: پراسیکیوٹرز ریکارڈ دیکھ سکیں گے

امریکی سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا ہے کہ نیویارک میں پراسیکیوٹرز صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مالی ریکارڈ کی جانچ پڑتال کرسکتے ہیں، اسی سلسلے میں ایک اور کیس کے دوران عدالت نے واضح کیا کہ مالی ریکارڈ کی معلومات کانگریس کے ساتھ شیئر نہیں کی جائیں گی۔

ڈونلڈ ٹرمپ رچرڈ نیکسن کے بعد پہلے امریکی صدر ہیں جنھوں نے اپنے ٹیکس ریٹرنس پبلک نہیں کئے۔ 1995 کا ان کا ٹیکس ریٹرن بھی لیک ہوا تھا۔

ڈونلڈ ٹرمپ کے وکیل کا موقف تھا کہ صدر کو عہدے پر رہتے ہوئے مکمل استثنی حاصل ہے اور کانگریس کے پاس ریکارڈ حاصل کرنے کا جواز نہیں۔

ڈیموکریٹس کی اکثریت والے ایوان نمائندگان کی 2 کمیٹیاں اور نیویارک ڈسٹرکٹ کے اٹارنی سائرس وینس طویل عرصے سے صدر ٹرمپ کے ٹیکس ریٹرن ظاہر کرنے کا مطالبہ کر رہے تھے۔

صدر ٹرمپ کسی بھی غلط کام کی تردید کرتے رہے ہیں اور اب ان کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ نے معاملہ ماتحت عدالت کو بھیج دیا ہے جہاں دلائل جاری رہیں گے۔

نیویارک کے پراسیکیوٹرز کی درخواست سے متعلق کیس میں سپریم کورٹ کے 9 میں سے 7 ججز نے واضح کیا ہے کہ صدر ٹرمپ کو کرمنل انویسٹی گیشن کے معاملے میں مکمل استثنی حاصل نہیں۔

ٹرینڈنگ

مینو