یواے ای اسرائیل ڈیل امہ کا فیصلہ نہیں، فضل الرحمان

محمد شکیل ، پشاور

جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ  متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کا معاہدہ  فلسطینیوں کی جدوجہد آزادی کی نفی ہے، یواے ای کے بادشاہ برائے نام ہیں اور بڑی قوتوں کے کٹھ پتلی ہیں۔

جے یو آئی کے سربراہ نے پشاور میں باچا خان مرکز کا دورہ کیا اور اے این پی رہنما میاں افتخار حسین سے ان کے بھائی کے انتقال پر اظہار تعزیت کی۔ بعد میں میڈیا سے گفتگو کرتےہوئے فضل الرحمان نے اپوزیشن جماعتوں سے بعض امور پر اختلاف کی تصدیق کی۔

ان کا کہنا تھا کہ بڑی جماعتیں ایک طرف حکومت کو ناجائز کہتی ہیں اور دوسری طرف حکومت کو ووٹ بھی دیتی ہیں، قول و فعل میں تضاد ختم ہونا چاہئے۔ پارلیمنٹ میں ایف اے ٹی ایف سے متعلق قانون سازی پر فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ ہم ایسی قانون سازی کر رہے ہیں جو آزادی کے خلاف ہے، اگر اقوام متحدہ کشمیر پر پاکستانی موقف کے خلاف قرارداد لائے تو پھر پاکستان کیا کرے گا۔ عالمی قوتیں ایف اے ٹی ایف کے ایجنڈے پر عمل کرنے کیلئے اس حکومت کو لائی ہیں، بڑی جماعتوں سے شکوہ ہے کہ انہیں اس کی سہولت کاری کا کردار ادا نہیں کرنا چاہئے۔

متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے معاہدے پر فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ کمزور ممالک کی گردن مروڑ کر اسرائیل کو تسلیم کرنے پر مجبور کیا جارہا ہے، یو اے ای کی اصل ملکیت امریکا کے پاس ہے، یہ برائے نام بادشاہ ہیں بلکہ اصل میں بڑی قوتوں کے کٹھ پتلی ہیں، یو اے ای کا عمل نہ تو عالم عرب کی نمائندگی ہے اور نہ امت کا فیصلہ ہے، امت کو واضح موقف کے ساتھ سامنے آنا چاہئے۔

اسلام آباد دھرنے سے متعلق سوال پر فضل الرحمان نے کہا کہ حکومت کو اقتدار میں لانے والوں نے وعدہ کیا تھا کہ مارچ میں حکومت کی بساط لپیٹ دی جائے گی۔  مارچ گزر گیا اب ملین مارچ ہی رہ گیا ہے۔

ٹرینڈنگ

مینو