امریکا : چینی شہریوں کی پکڑدھکڑ

امریکا اور چین کی سرد جنگ میں تیزی آگئی، بیجنگ نے ہیوسٹن میں اپنا قونصل خانہ بند کرائے جانے کے بعد جوابی کارروائی کی ہے اور چینگ ڈو میں امریکی قونصلیٹ بند کرنے کا حکم دے دیا ، امریکا میں چینی شہریوں کی پکڑدھکڑ بھی شروع ہوگئی ہے۔ 

امریکی حکام نے سی این این کو بتایا کہ سان فرانسسکو کے چینی قونصلیٹ میں چھپنے والی چینی سائنسدان تانگ جوان کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ ان پر ویزا فراڈ کا الزام ہے اور کہا جارہا ہے کہ وہ چینی فوج کی اہلکار رہی ہیں، اس کے علاوہ بھی 3 چینی شہریوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق ریسرچر تانگ جوان نے ویزا درخواست میں چینی فوج سے تعلق چھپایا تھا اور تحقیق کاروں کو بعد میں ان کی باوردی تصویر ملی، ایف بی آر ایجنٹس نے 20 جون کو ان کا انٹرویو لیا تھا ، تانگ نے چینی فوج میں خدمات انجام دینے کی تردید کی تھی اور کہا تھا کہ یہ یونیفارم فوجی اسکول میں لازمی تھا۔

ایف بی آئی نے امریکا کے 25 شہروں میں ایسے افراد سے پوچھ گچھ کی ہے جن کی چینی فوج سے غیراعلانیہ وابستگی کا شبہ ہے، بین الاقوامی ماہرین اسے 40 سال میں سب سے بڑا کریک ڈاؤن قرار دے رہے ہیں۔

چین بھی جوابی کارروائی کر رہا ہے، امریکا نے ہیوسٹن میں چینی قونصلیٹ بند کرایا تو چین نے جنوب مغربی شہر چینگ ڈو میں امریکی قونصلیٹ کی بندش کا حکم سنادیا۔ اس قونصل خانے میں تقریبا 2 سو افراد تعینات ہیں اور اکثریت مقامی افراد کی ہے۔

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان وینگ وین بن نے بتایا کہ امریکی قونصل خانے کا عملہ چین کے داخلی معاملات میں مداخلت کر رہا تھا ، ان کے اقدامات سے چینی سیکیورٹی اور مفادات خطرے میں تھے۔

اس سے پہلے امریکی وزیرخارجہ مائیک پومپیو نے ہیوسٹن میں چینی قونصل خانہ بند کئے جانے کی تصدیق کرتے ہوئے قونصلیٹ کو جاسوسی کا گڑھ اور امریکی کمپنیوں کے راز چرانے کا مرکز قرار دیا تھا۔

ٹرینڈنگ

مینو