مسخرہ، نسل پرست، بائیڈن اور ٹرمپ الجھ پڑے

امریکی انتخابات سے پہلے صدارتی مباحثے میں دونوں امیدواروں ایک دوسرے سے الجھتے رہے، ڈیموکریٹ جوبائیڈن نے صدر اور ریپبلکن ڈونلڈ ٹرمپ کو مسخرہ کہہ دیا۔

نومبر کے صدارتی انتخابات کیلئے پہلے ٹی وی مباحثے میں دونوں امیدواروں نے ایک دوسرے کے خلاف الزامات کی بوچھار کردی۔ جو بائیڈن نے ٹرمپ کو شٹ اپ کال دی تو ٹرمپ نے مخالف رہنما کو ماضی یاد دلادیا۔

ڈیموکریٹ صدارتی امیدوار نے ٹرمپ کو کورونا سے اموات اور کیسز بڑھنے کا ذمے دار قرار دیا، انھوں نے کہا کہ ٹرمپ جھوٹے ہیں، ان کے پاس ہیلتھ کیئرپلان ہی نہیں۔ اسکول ٹیچر نے بھی ٹرمپ سے زیادہ ٹیکس دیا۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگر بائیڈن ہوتے تو کورونا کے باعث 2 لاکھ سے زائد امریکی ہلاک ہوجاتے۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ شاید انتخابی نتائج آنے میں کئی ماہ لگ جائیں ، جوبائیڈن بولے وہ نتائج تسلیم کر لیں گے لیکن ٹرمپ نے سوال کا جواب نہیں دیا۔ جوبائیڈن نے مخالف رہنما کو امریکا کا بدترین صدر ، مسخرا ، نسل پرست اور روسی صدر کی کٹھ پتلی قرار دیا۔

جوبائیڈن نے چین کے ساتھ تجارتی معاہدے کے باعث ڈونلڈ ٹرمپ پر تنیقد کی، امریکی صدر گفتگو کے دوران بولنا شروع ہوگئے اور انھوں نے بائیڈن کے بیٹے ہنٹر بائیڈن پر چین سے غیرقانونی طور پر کروڑوں ڈالر منافع لینے کا الزام لگادیا۔

جو بائیڈن نے کہا کہ سپریم کورٹ میں نئے چیف جسٹس کی نامزدگی الیکشن کے بعد ہونی چاہئے۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ انھیں جج منتخب کرنے کا اختیار ہے اور وہ امریکی معیشت کو بلند ترین سطح پر لے کر گئے ، جوبائیڈن امریکا میں شٹ ڈاؤن چاہتے ہیں۔

کیا آپ سفید فام نسل پرستی کی مذمت کریں گے ، اس سوال پر صدر ٹرمپ نے جواب دیا کہ وہ جو ہورہا ہے دیکھ رہے ہیں، تقریبا یہ سب بائیں بازو کی جانب سے ہے، دائیں بازو کی طرف سے نہیں، انھوں نے مردوں کے حقوق کی تنظیم پراؤڈ بوائز سے کہا کہ پراؤڈ بوائز رک جائیں۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اصل خطرہ بائیں بازو کے اتحاد اینٹی فا سے ہے۔

مباحثے میں دونوں امیدواروں کے اہلخانہ بھی موجود تھے، سوشل میڈیا صارفین صدر ٹرمپ کے اہلخانہ کو فیس ماسک نہ لگانے پر تنقید کا نشانہ بنارہے ہیں۔

ٹرینڈنگ

مینو