امریکا : بے روزگاری کے تباہ کن اعداد و شمار

امریکا میں بے روزگاری کی شرح 14 اعشاریہ 7 فیصد پر جا پہینچی ، یہ گریٹ ڈیپریشن کے بعد اب تک کی سب سے زیادہ شرح ہے۔ صرف اپریل میں 2 کروڑ سے زیادہ افراد نوکریوں سے محروم ہوئے ہیں۔

ماہرین کا خیال ہے کہ امریکا میں بے روزگاری کی شرح کم سے کم اگلے سال تک بلند رہے گی اور صورت حال معمول پر آنے میں کئی برس لگیں گے۔

امریکا میں سب سے زیادہ نسلی اقلیتوں کے افراد متاثر ہوئے ہیں جن میں پاکستانی بھی شامل ہیں۔ وہ ایسی نوکریوں سے منسلک تھے جو گھر بیٹھے نہیں کی جاسکتیں اس لئے انہیں ملازمت سے نکال دیا گیا۔

کئی ایسے ہیں جو عشروں ہڈیاں رگڑ کر نچلے طبقے سے مڈل کلاس کا حصہ بنے تھے تاہم پچھلے 4 ماہ کے دوران بے روزگاری اور بزنسز کی تباہی نے انہیں ایک بار پھر صفر پر لاکھڑا کیا ہے۔

اس سے پہلے 2009 میں کساد بازاری کے دوران امریکا میں بے روزگاری کی شرح  10 فیصد ہوئی تھی اور 87 لاکھ افراد بے روزگار ہوئے تھے البتہ 1933 میں بے روزگاری کی شرح 25 فیصد تک جاپہنچی تھی ۔

نومبر میں الیکشن کا سامنا کرنے والے صدر ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ مصنوعی بندش ختم ہوتے ہی معیشت پھر سے پوری توانائی کے ساتھ بحال ہوجائے گی اور اگلا سال بہترین ہوگا۔

ٹرینڈنگ

مینو