سلیمانی کا قتل غیرقانونی،یواین ماہر،ویڈیو

اقوام متحدہ کے ماہرین نے عراق میں ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کو امریکا کا غیر قانونی اقدام قرار دے دیا۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق سے متعلق تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ ڈرون حملہ کرکے ایرانی جنرل قاسم سلیمانی اور دیگر 9 ساتھیوں کا قتل یواین چارٹر کی خلاف ورزی تھا۔

ماورائے عدالت، غیر قانونی یا صوابدیدی سزائے موت پر عمل درآمد سے متعلق امور کیلئے اقوام متحدہ کی نمائندہ خصوصی ایگنس کالمارڈ نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ امریکی حکام جنرل سلیمانی کے قافلے پر ڈرون حملے کا جواز پیش میں ناکام رہے۔ ڈرونز کے ذریعے ٹارگٹ کلنگز سے متعلق آزاد تفتیش کار کالمارڈ کی رپورٹ اقوام متحدہ کی ہیومن رائٹس کونسل میں جمعرات کو پیش کی جائے گی۔ اس رپورٹ میں سے نصف جنرل سلیمانی کے قتل سے متعلق ہے۔

کالمارڈ کا کہنا ہے کہ ایسے شواہد فراہم نہیں کئے گئے جس سے ثابت ہو کہ جنرل سلیمانی امریکی مفادات اور خاص طور پر عراق میں فوری حملہ کرنے والے تھے اور یہ کارروائی ضروری تھی۔

امریکا نے عراق میں 3 جنوری کو ڈرون حملہ کرکے قدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی کو قتل کردیا تھا۔ واشنگٹن نے انھیں خطے میں امریکی فورسز پرحملوں کا ماسٹر مائنڈ قرار دیا تھا۔

امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے قاسم سلیمانی کو دہشت گرد دیتے ہوئے بتایا تھا کہ ایرانی جنرل کو ان کے حکم پر قتل کیا گیا۔

ایران نے جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کا ذمے دار قرار دے کر گزشتہ دونوں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سمیت 36 افراد کے وارنٹ گرفتاری جاری کئے تھے۔

ٹرینڈنگ

مینو