ہیوسٹن : چینی قونصلیٹ بند کرنے کا حکم

دنیا کی 2 سپرپاورز میں کشیدگی عروج پر پہنچ گئی ، امریکا نے ہیوسٹن میں چینی قونصل خانہ بند کرنے کا حکم دیا۔ بیجنگ نے اس اقدام کو سیاسی اشتعال انگیزی قرار دے کر جوابی کارروائی کا عندیہ دے دیا۔

امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے کہا ہے کہ یہ فیصلہ نجی معلومات کے تحفظ کیلئے کیا گیاہے۔ اس سے پہلے امریکی محکمہ انصاف نے چین پر الزام لگایا تھا کہ وہ ایسے ہیکرز کی مدد کررہا ہے جو کورونا ویکسین کی تیاری میں مصروف لیبارٹریز کو نشانہ بنارہے ہیں۔ امریکا میں 2 چینی شہریوں پر ریسرچ کی چوری کے الزام میں فرد جرم بھی عائد کی گئی ہے۔

حکومتی اعلان سے کچھ دیر پہلے ہیوسٹن میں مقامی میڈیا نے دعویٰ کیا تھا کہ قونصل خانے کے اہلکار عمارت کے احاطے میں کاغذات جلا رہے ہیں، اس کے بعد آگ بجھانے کے محکمے کی گاڑی بھی وہاں پہنچ گئی تھی۔

امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کی ترجمان مورگن اورٹاگس نے بتایا کہ چینی قونصل خانہ 72 گھنٹے کے اندر بند کرنے کا حکم دیا گیا ہے تاکہ امریکی دانشورانہ املاک اور نجی معلومات کا تحفظ کیا جائے۔

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان وینگ وین بن نے اس اقدام کو اشتعال انگیز اور غیر منصفانہ قرار دیا۔ انھوں نے کہا کہ امریکی حکومت چینی سفارتکاروں اور قونصل خانے کے عملے کو طویل عرصے سے ہراساں کررہی ہے۔ اگر امریکا غلط راہ پر چلتا رہا تو چین ٹھوس اقدامات اٹھائے گا۔ انھوں نے ہیوسٹن میں چینی قونصل خانے کے احاطے میں دستاویزات جلائے جانے سے متعلق سوال کا جواب نہیں دیا۔

ٹرینڈنگ

مینو