پرنسٹن یونیورسٹی سے ووڈرو ولسن کا نام غائب

طاہر عباس (بیورو چیف نارتھ امریکا)

جگ ہنسائی ہوئی تو امریکا کی صف اول میں شمار کی جانے والی یونیورسٹیوں کو بھی عقل آنے لگی۔ پرنسٹن یونیورسٹی نے 2 بار ملک کے صدر منتخب ہونے والے ووڈرو ولسن کے نام کی تختیاں اکھاڑ پھینکیں۔

امریکا کی پرنسٹن یونیورسٹی سن دوہزار 15 سے ایسے تمام مطالبات نظر انداز کرتی رہی تھی جن میں کہا جارہا تھا کہ نسل پرست پالیسیوں کا پرچار کرنے والے سابق صدر ووڈرو ولسن کے نام کی تختیاں ہٹائی جائیں۔

پولیس اہلکاروں کے ہاتھوں سیاہ فام شہری جارج فلائیڈ کی موت نے ایسا دباو پیدا کیا کہ اب پرنسٹن یونیورسٹی انتہائی اقدام پر مجبور ہوگئی۔

ووڈرو ولسن اسکول آف پبلک اینڈ انٹرنیشنل افیئرز کا نام بدل دیا گیا ہے اور اب اس پر پرنسٹن اسکول آف پبلک اینڈ انٹرنیشنل افیئرز کے نام کی تختی لگادی گئی ہے۔

ووڈرو ولسن ہی کے نام سے معنون ولسن کالج کو اب فرسٹ کالج کہا جایا کرے گا۔ پرنسٹن یونیورسٹی کے مطابق ولسن کی نسل پرست سوچ اور پالیسیاں ادارے کی پالیسی سے مطابقت نہیں رکھتیں۔

1913 میں امریکا کے 28 ویں صدر منتخب ہونے سے پہلے ولسن ، ووڈرو ولسن اسکول آف پبلک اینڈ انٹرنیشنل افیئرز کے صدر رہے تھے۔

ولسن کا تعلق ورجینیا سے تھا۔ انھوں نے 1879 میں پرنسٹن سے گریجویشن کی تھی۔ بعد میں وہ ریاست نیوجرسی کے گورنر بنے ۔ وہ 1913 میں امریکا کے صدر منتخب ہوگئے تھے اور دوبار ملک کی صدارت کی۔

ووڈروولسن نے نسل پرستی کی اس وقت انتہاکردی تھی جب 1915 میں انہوں نے وائٹ ہاوس میں برتھ آف اے نیشن نامی فلم کی اسکریننگ کرائی تھی۔

برتھ آف اے نیشن میں دائیں بازو کے نسل پرست کوکلاکلان کو ہیرو کے طور پر پیش کیا گیا تھا۔ صدارتی محل میں نمائش کی گئی یہ پہلی موشن پکچر تھی۔

ٹرینڈنگ

مینو