علی زیدی مختلف جے آئی ٹی رپورٹ لے آئے

وفاقی وزیر بحری امور علی زیدی نے لیاری گینگ وار کے اہم کردار عزیر بلوچ کی مختلف جے آئی ٹی رپورٹ پیش کردی، ان کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت کی رپورٹ میں یہ بات نہیں کہ عزیز بلوچ نے سارے کام کس کے کہنے پر کئے، حکومت کی پروٹیکشن کے بغیر اتنے بڑے کام کیسے ہوگئے.

علی زیدی نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران آصف زرداری کا انٹرویو بھی دکھایا، انھوں نے کہا کہ بیان حلفی کے صفحہ 7 میں عزیر بلوچ نے بتایا کہ وہ سینیٹر یوسف بلوچ کے کہنے پر وزیراعلی سندھ (سابق) قائم علی شاہ اور فریال تالپور سے ملا ، اپنے سرکی قیمت ختم کرانے کا کہا جو فریال تالپور اور آصف زرداری کے کہنے پر ختم کردی گئی۔

وفاقی وزیر نے اصل جے آئی ٹی رپورٹ پبلک کرنے کا اعلان کرتے ہوئے بتایا کہ سندھ حکومت کی 35 صفحات پر مشتمل رپورٹ میں عزیر بلوچ سے جرائم کرانے والوں کا ذکر نہیں، اصل رپورٹ 43 صفحہ پر مشتمل ہے، ایک جے آئی ٹی پر 4 اور دوسری پر 6 لوگوں کے دستخط ہیں، 4 لوگوں کے دستخط والی جے آئی ٹی میں دوستوں کے بھی نام ہیں جبکہ سندھ حکومت کی جاری رپورٹ میں سے 6 نام موجود نہیں۔ علی زیدی نے بتایا کہ ان کے پاس موجود رپورٹ میں سرفہرست یوسف بلوچ، شرجیل میمن ، قادرپٹیل ہیں۔ اصل رپورٹ میں قادر پٹیل نے رزاق کمانڈو کے بھائی جلیل کو قتل کرنے کا حکم دیا۔ علی زیدی نے چیف جسٹس سے ازخود نوٹس کی اپیل کی اور کہا کہ ان کے پاس جو رپورٹ ہے اس کے ہر صفحے پر عزیر بلوچ کے دستخط ہیں۔

علی زیدی نے بتایا کہ اصل رپورٹ میں ذوالفقار مرزا ، قادر پٹیل ، نثار مورائی ، اویس مظفر اور شرجیل میمن کے نام ہیں، جس کا نام بھی جے آئی ٹی میں ہے اس سے تفتیش کی جائے۔

ٹرینڈنگ

مینو