ارطغرل دیکھنا جائز نہیں، جامعہ بنوریہ

اعجاز امتیاز

دارالافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیہ بنوری ٹاؤن کراچی نے ترک ڈرامے ارطغرل غازی سمیت دیگر ڈرامے دیکھنا شرعا ناجائز قرار دے دیا۔

بنوری ٹاؤن کی آفیشل ویب سائٹ پر جاری فتوے میں کہا گیا ہے کہ ارطغرل غازی ترکی کا تاریخی ڈراما ہے، اس میں خلاف عثمانیہ کے بانی عثمان کے والد ارطغرل اور ان کے قبیلے کے حالات کو فلم بند کیا گیا ہے، اس کے تمام واقعات مستند و تصدیق شدہ نہیں بلکہ اس داستان میں سچ اور جھوٹ دونوں کی آمیزش ہے۔

دارالافتاء جامعۃ العلوم الاسلامیہ کے مطابق ڈرامے کے کردار و مناظر بڑے سحر انگیز ہیں۔ اس کی وجہ سے عوام و خواص بلکہ دین دار افراد بھی اس پر فریفتہ ہیں اور اس کے دیوانے بنے ہوئے ہیں۔ یہاں تک کہ بعض نام نہاد علما اور خودساختہ مفکرین بڑے بڑے مضامین لکھ کر اس کو دیکھنے کی دعوت دے رہے ہیں۔

فتوے کے مطابق ایسے حالات میں ضروری ہوجاتا ہے کہ اس قسم کے ڈراموں کی شرعی حیثیت واضح کی جائے اور لوگوں کی صحیح رہنمائی کی جائے۔

فتوے میں کہا گیا کہ جائز مقصد حاصل کرنے کیلئے ناجائز طریقہ اپنانا درست نہیں، خلافت عثمانیہ کے تاریخی دور کی روئیداد تاریخ کی کتابوں کے مطالعہ اور اس سے متعلق لٹریچر عام کرکے ہوسکتی ہے، اس کیلئے فلم ، ڈراما بنانا اور دیکھنا جائز نہیں۔

ٹرینڈنگ

مینو