کراچی : بدترین لوڈشیڈنگ، شہری بلبلا اٹھے

گرمی بڑھتے ہی کراچی میں کئی کئی گھنٹے بتی غائب رہنے لگی۔ وفاقی حکومت نے کے الیکٹرک کو مزید 5 سو میگاواٹ دینے پر رضامندی ظاہر کی ہے لیکن کے الیکٹرک کا سسٹم مزید بجلی لینے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔

دن میں آرام نہ رات کو سکون، کے الیکٹرک نے تیل کی قلت کو جواز بنا کر کراچی والوں کی زندگی مشکل بنادی، شہر میں لوڈشیڈنگ کا دورانیہ بڑھادیا گیا ہے۔

کئی علاقوں میں ہر 4 گھنٹے بعد ایک گھنٹے لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے جبکہ کئی مقامات پر 12 گھنٹے تک فراہمی معطل رہتی ہے۔

کلفٹن، صدر، نمائش ، لیاقت آباد ، فیڈرل بی ایریا ، نارتھ ناظم آباد ، گلستان جوہر ، شاہ فیصل کالونی ، ملیر ، لیاری ، کیماڑی اور آئی آئی چندریگر روڈ میں دن اور رات کو کئی کئی بار لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے۔

کراچی میں عملی طور پر کوئی علاقہ لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ نہیں رہا ، ایسے علاقے جنھیں لوڈشیڈنگ سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے وہاں بھی چوبیس گھنٹے میں 2 سے 3 گھنٹے لوڈشیڈنگ کا سلسلہ جاری ہے۔

ترجمان وزارت توانائی کے مطابق وفاقی کابینہ کے الیکٹرک کو 11 سو میگاواٹ اضافی بجلی دینے کی منظوری دے چکی ہے لیکن کے الیکٹرک نے سسٹم بہتر بنانے کیلئے سرمایہ کاری نہیں کی۔ کے الیکٹرک کا سسٹم 23-2022 میں اپ گریڈ ہوگا اور اس وقت ہی اضافی بجلی لینے کے قابل ہوسکے گا۔

ٹرینڈنگ

مینو